حیدرآباد: سائبرآباد کے کمشنر آف پولیس اویناش موہنتی نے جمعرات کو ہوم گارڈز کریڈٹ سوسائٹی کی نئی منتخب کمیٹی سے ملاقات کی اور انہیں دیانت داری اور شفاف طرزِ قیادت اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت فیصلے فلاحی نظام میں بہتری لاتے ہیں، جبکہ مربوط منصوبہ بندی سے سوسائٹی کے اثرات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
نئی کمیٹی کا انتخاب اور فلاحی تصور | Guard Welfare
یہ سوسائٹی تلنگانہ کی پہلی کوآپریٹو کریڈٹ باڈی ہے جو خصوصی طور پر ہوم گارڈز کے لیے قائم کی گئی ہے، اور اس کا مقصد منظم کریڈٹ سپورٹ کے ذریعے معاشی استحکام بڑھانا ہے۔ 12 نومبر 2025 کو انتخابی افسر کے پروین کمار کی نگرانی میں انتخابات ہوئے، جن میں تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔ نئی کمیٹی میں بی گوپال، ایم اشوک کمار، ای بُچیا، پی نریندر ریڈی، ٹی منمدھا راؤ، جی چِنّمّاں اور جیا لکشمی شامل ہیں۔ اتفاقِ رائے کو مضبوط داخلی ہم آہنگی کی علامت قرار دیا گیا۔
ایکس آفیشیو ممبران میں جے سی پی ڈاکٹر گجاراؤ بھوپال (صدر)، اے ڈی سی پی جے کے شمیر (نائب صدر)، اور آر آئی ایم وجے آنند (خزانچی) شامل ہیں۔
مستقبل کے فلاحی منصوبے اور بہتر نظام کی تیاری | Guard Welfare
موہنتی نے کمیٹی سے کہا کہ وہ دستاویزی نظام کو مؤثر بنائیں تاکہ اراکین کو سہولیات میں تاخیر کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے فیلڈ یونٹس اور مرکزی دفتر کے درمیان مسلسل رابطے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق بہتر ہم آہنگی فلاحی خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنائے گی۔
سوسائٹی نے ہوم گارڈز کے لیے جامع انشورنس اسکیم متعارف کرانے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس سے ہنگامی حالات میں مالی تحفظ بڑھے گا۔ افسران نے کہا کہ فلاحی سرگرمیوں میں توسیع کے ذریعے طویل مدتی معاشی استحکام حاصل کیا جائے گا۔ ایس آئی جی ملیشم کے مطابق یہ پیش رفت سائبرآباد میں ہوم گارڈز کی فلاح اور اتحاد کے ادارہ جاتی ماڈل کو مضبوط بنانے کی اہم کوشش ہے۔
