حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور صحافیوں کے لیے قائم کیش لیس طبی سہولیات فراہم کرنے والے ویلنیس مراکز کے نظام میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ حکومت نے ان مراکز کا انتظام آروگیہ شری ٹرسٹ سے منتقل کرکے میڈیکل ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ (DME) اور نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (NIMS) کے سپرد کردیا۔
محکمہ صحت کے سینئر عہدیداروں نے تصدیق کی کہ نیا انتظامی نظام پیر سے نافذ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد ماہر ڈاکٹروں کی طویل عرصے سے جاری کمی کو دور کرنا اور مجموعی طبی خدمات کو مضبوط بنانا ہے۔
انتظامی تبدیلی کی تفصیلات | Wellness Centres
حکومت نے ریاست کے 12 میں سے 10 ویلنیس مراکز کو ڈی ایم ای کے زیر انتظام اور دو کو نمس کے تحت رکھا ہے۔ آروگیہ شری ٹرسٹ کے سی ای او کی سفارش پر جاری کردہ سرکاری حکم نامہ نمبر 204 کے مطابق خیریت آباد اور کوکٹ پلی مراکز نمس کے سپرد کیے گئے، جبکہ عادل آباد، کریم نگر، کھمم، محبوب نگر، نلگنڈہ، نظام آباد، سنگاریڈی، سدی پیٹ، ونستھلی پورم (رنگا ریڈی) اور ہنمکنڈہ کے مراکز ڈی ایم ای کے ماتحت آگئے۔
فی الحال ان مراکز پر روزانہ تقریباً 2000 مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی شمولیت کے بعد یہ تعداد 3000 سے 4000 تک پہنچ سکتی ہے۔ ہر مرکز میں 10 سے 12 ماہر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے لیکن کم تنخواہوں کی وجہ سے کئی ڈاکٹر دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ اس باعث مریضوں کو خصوصی علاج کے لیے نمس حیدرآباد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی اور فنڈنگ | Wellness Centres
ماہر ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاستی میڈیکل کالجوں کے ڈاکٹروں کو باری باری ویلنیس مراکز میں خدمات انجام دینے کے لیے تعینات کیا جائے۔ اس سے تدریسی اسپتالوں کے وسائل کا مؤثر استعمال ہوگا اور مریضوں کو اپنے گھروں کے قریب ہی ماہر علاج کی سہولت ملے گی۔
اب مریضوں کو کارڈیالوجی، نیورولوجی، نیفرو لوجی اور آرتھوپیڈکس کے ماہرین تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے نجی اسپتالوں پر انحصار کم ہونے کی امید ہے۔ ہر ماہر ڈاکٹر صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک خدمات انجام دے گا۔ غیر طبی عملہ جیسے ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور اسسٹنٹس بدستور آروگیہ شری ٹرسٹ کے تحت رہے گا۔
حکومتی حکم نامے کے مطابق تمام اخراجات ایمپلائی اینڈ جرنلسٹ ہیلتھ اسکیم (EJHS) کے فنڈز سے پورے کیے جائیں گے، جبکہ آلات، ادویات اور دیکھ بھال کے لیے اخراجات آروگیہ شری ٹرسٹ کی انتظامی فنڈز سے ادا ہوں گے۔ نئی تعینات ڈاکٹروں کی تنخواہوں کی ذمہ داری ٹرسٹ پر نہیں ہوگی۔ موجودہ اخراجات کے تحت ٹرسٹ ویلنیس مراکز کے لیے سالانہ تقریباً 18 کروڑ روپئے ادویات پر خرچ کر رہا ہے۔
