حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے بدھ کو بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے ہر شہری پر چار لاکھ روپئے کا قرضہ لاد دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست نے دس برس تک ’’بلڈوزر راج‘‘ دیکھا، اور یہی بی آر ایس تھی جس نے تلنگانہ کو خوف اور غنڈہ گردی کی ریاست میں تبدیل کر دیا۔
انہوں نے ایک نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ وہ سرکاری عہدیداروں کو دھمکانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور بطور وزیر صرف اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
سابق حکومت پر شدید تنقید – Telangana Governance
جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ کے ٹی آر عوام کو جھوٹے سروے دکھا کر گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بی آر ایس کے رہنماؤں کو گڈ گورننس پر بولنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں کیونکہ ان کی اپنی کارکردگی ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ دس برس کے دوران عوام کو قرض، بے روزگاری اور بدانتظامی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ جوپلی نے کے ٹی آر کو کھلی بحث کا چیلنج دیا اور کہا کہ وہ کسی بھی وقت ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عوامی فلاح پر توجہ دینے کی اپیل – Telangana Governance
جوپلی نے کہا کہ موجودہ حکومت کا مقصد عوامی فلاح اور شفاف طرزِ حکمرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ تلنگانہ ترقی، شفافیت اور ذمہ داری کی راہ پر آگے بڑھے۔
