حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ اور بی جے پی پر خفیہ معاہدے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو چیلنج دیا کہ اگر ایسا نہیں تو وہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب سے قبل کالیشورم منصوبے کے معاملے میں سی بی آئی سے ایف آئی آر درج کروا کر کے سی آر اور ٹی ہریش راؤ کو گرفتار کریں۔
کالیشورم کیس پر چیلنج | Revanth Allegation
ریونت ریڈی نے یہ الزامات منگل کی رات جوبلی ہلز کے رحمت نگر میں روڈ شو کے دوران عائد کیے۔ ان کے ساتھ کانگریس امیدوار نوین یادو بھی مہم میں شریک تھے۔ وزیر اعلیٰ نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی مفاد کے لیے کے سی آر کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ’’فیوی کول بانڈ‘‘ جیسا رشتہ قائم ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی کے مقدمات میں کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ فارمولا ای ریسنگ ڈیل میں الیکٹورل بانڈز کے ذریعے ایک کمپنی سے 50 کروڑ روپئے وصول کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ انسداد بدعنوانی بیورو نے مکمل شواہد کے ساتھ کے ٹی راماراؤ کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتاری کی اجازت مانگی، لیکن فائل دو ماہ سے گورنر کے پاس التوا میں ہے۔
’’بی آر ایس نے روایت توڑی‘‘ | Revanth Allegation
ریونت ریڈی نے الزام لگایا کہ بی آر ایس نے ریاست کی سیاسی روایت کو توڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب پالیرُو اور نارائن کھیڑ کے ارکان اسمبلی کا انتقال ہوا تو کے سی آر نے ان کے خاندانوں کے خلاف امیدوار کھڑے کیے۔
انہوں نے کے ٹی آر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جائیداد کے تنازعے پر اپنی بہن کو گھر سے نکال دیا۔ ریونت نے کہا کہ ’’تلنگانہ کی بیٹیاں فلاح چاہتی ہیں، فارم ہاؤس یا عیش و عشرت نہیں۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ دس سال کی حکومت میں کے سی آر نے خواتین کے لیے مفت بس سہولت یا غریب خاندانوں کو راشن کارڈ کیوں نہیں دیے۔
’’شہر کی بدحالی کا ذمہ دار کے ٹی آر‘‘ | Revanth Allegation
ریونت نے کے ٹی آر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’وہ اب کالونیوں میں کچرے کا معائنہ کر رہے ہیں،جبکہ وہ دس برس تک بلدیاتی وزیر رہے۔‘‘ انہوں نے طنز کیا کہ کے ٹی آر کو ایک دن کچرے کے ڈبے کے قریب رہ کر شہریوں کی مشکلات کا احساس ہونا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کانگریس نے ہائی ٹیک سٹی، آوٹر رنگ روڈ، میٹرو اور بین الاقوامی ہوائی اڈا تعمیر کیا، جبکہ کے سی آر کے خاندان نے صرف ذاتی جائیدادیں بنائیں۔ ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ ’’کے سی آر کے پاس گجویل میں 1,000 ایکڑ، کے ٹی آر کے پاس جنواڑہ میں 100 ایکڑ، ہریش راؤ کے پاس معین آباد میں 50 ایکڑ اور کویتا کے پاس شنکر پلی میں جائیدادیں ہیں۔ اگر ہمت ہے تو کے ٹی آر اس کی تردید کرے،‘‘۔
