حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی سیکریٹریٹ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ بی آر ایس کے دس منحرف ارکانِ اسمبلی کے خلاف جاری نااہلی کارروائی مکمل کرنے کے لیے دو ماہ کی اضافی مہلت دی جائے۔ عدالت کی مقررہ تین ماہ کی مدت آج ختم ہو گئی ہے۔
اس سے قبل بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اسپیکر کو ان ارکان کے خلاف جلد فیصلہ سنانے کی ہدایت دی جائے جو 2023 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔
اسپیکر کو جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت | MLA Disqualification
سپریم کورٹ نے 31 جولائی کو اپنے حکم میں اسپیکر کو ہدایت دی تھی کہ نااہلی کی درخواستوں پر تین ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ عدالتِ عظمیٰ نے مشاہدہ کیا تھا کہ ایسے معاملات میں تاخیر منحرف ارکان کے لیے غیر منصفانہ فائدہ پیدا کرتی ہے اور انسدادِ انحراف قانون کی روح کو کمزور کرتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا تھا کہ ان درخواستوں کو برسوں تک زیرِ التوا رکھنا غیر آئینی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اسپیکر نے تمام دس ارکان کو نوٹس جاری کیے، تاہم صرف آٹھ ارکان نے جواب دیا اور ان میں سے چار ہی سماعت میں پیش ہوئے۔ بقیہ چھ ارکان تاحال پیش نہیں ہوئے۔
سپریم کورٹ میں دو ماہ کی توسیع کی درخواست | MLA Disqualification
مدت ختم ہونے پر اسمبلی سیکریٹری نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے جس میں دو ماہ کی مہلت طلب کی گئی ہے۔ اسپیکر کے وکیل نے وضاحت کی کہ سماعت کا عمل جاری ہے اور تمام مراحل کو مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کا اگلا فیصلہ بی آر ایس کے منحرف ارکان کی قسمت کا تعین کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے سے تلنگانہ اسمبلی میں سیاسی توازن پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
