حیدرآباد: حیدرآباد میں سی بی آئی کے زونل دفتر نے بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ (بی ایچ ای ایل) میں مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ کارروائی پداپلی ضلع کے این ٹی پی سی رام گنڈم پلانٹ سے متعلق ہے، جہاں 14 اکتوبر کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ مقدمے میں بلوں کی ہیرا پھیری اور منظوری کے غلط استعمال کے الزامات شامل ہیں۔
35 کروڑ روپئے کی مشتبہ ادائیگیاں | BHEL Scam
تحقیقات کے مطابق مالی سال 2021–22 کے دوران 35.03 کروڑ روپئے کی مشکوک ادائیگیاں کی گئیں۔ ویجیلنس ایڈیشنل جنرل منیجر ہریش کمار گپتا نے مارچ میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں بی ایچ ای ایل کے اسسٹنٹ جنرل منیجر کوڈاپے سنیل کمار سمیت نو افراد کے نام شامل ہیں۔
جعلی بل اور ٹھیکیدار کمپنیوں کا کردار | BHEL Scam
تحقیقات سے پتہ چلا کہ کولکاتا کی برج اینڈ روف کمپنی (انڈیا) لمیٹڈ اور پاور میک پراجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ نے بوائلر کی تنصیب اور کمیشننگ کا کام سنبھالا تھا۔ برج اینڈ روف کمپنی نے جعلی اجرتی بل تیار کر کے بی ایچ ای ایل کو جمع کرائے، جنہیں بغیر جانچ کے منظور کر لیا گیا۔ اس غفلت سے 35.03 کروڑ روپئے کی زائد ادائیگی ہوئی۔
سی بی آئی کی ٹیمیں اب تمام ادائیگی فائلوں، معاہدوں اور داخلی منظوریوں کا ریکارڈ کھنگال رہی ہیں تاکہ اس اسکینڈل میں ملوث افراد کا پتہ چلایا جا سکے۔
