حیدرآباد: تلنگانہ کے نجی پروفیشنل اور انجینئرنگ کالجوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 3 نومبر سے ریاست گیر بند منظم کریں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر فیس ری ایمبرسمنٹ کے واجبات ادا کرے۔
تلنگانہ پرائیویٹ کالجز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ حکومت کو 22 اکتوبر کو باضابطہ نوٹس جاری کی جائے گی۔
واجبات کی عدم ادائیگی پر احتجاج | Telangana Colleges Bandh
ایسوسی ایشن کے مطابق، 25 اکتوبر کو طلبہ یونینوں کے ساتھ میٹنگ اور 26 اکتوبر کو آل ممبرز کانفرنس ہوگی۔ اس کے علاوہ، 1 نومبر کو آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے گی تاکہ اجتماعی کارروائی پر مشاورت کی جا سکے۔
کالج انتظامیہ نے بتایا کہ وہ پہلے بھی 15 ستمبر سے ہڑتال پر تھے لیکن حکومت کی یقین دہانی پر تدریسی سرگرمیاں بحال کی گئیں۔ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ 600 کروڑ روپئے فوری اور مزید 600 کروڑ روپئے دیوالی سے قبل جاری کیے جائیں گے۔
تاہم، تہوار کے بعد بھی باقی رقم جاری نہیں کی گئی، جس کے باعث نجی ادارے دوبارہ احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں۔
حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام | Telangana Colleges Bandh
ایسوسی ایشن نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی تاخیر سے کئی ادارے مالی بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بند اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام واجبات ادا نہیں کیے جاتے۔
کالج انتظامیہ نے محکمہ تعلیم سے اپیل کی کہ وہ فوری کارروائی کرے تاکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل نہ آئے۔
تلنگانہ میں نجی کالجوں کا یہ بند نہ صرف مالی مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت وعدے کے مطابق فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم فوری طور پر جاری کرے۔
