حیدرآباد: بی جے پی رکن اسمبلی ٹی۔ راجہ سنگھ نے بدھ کے روز مرکزی وزیر اور سابق ریاستی بی جے پی صدر جی۔ کشن ریڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے تلنگانہ میں پسماندہ طبقات (بی سی) کے مفادات کے ساتھ غداری کی ہے۔ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کے امیدوار کے اعلان کے بعد راجہ سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشن ریڈی پارٹی میں بی سی برادری کے حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
بی جے پی پر بی سی طبقات کو نظر انداز کرنے کا الزام | Raja Singh
راجہ سنگھ نے نعرے لگائے — ’’ایدی می راجیم، ایدی می راجیم، کشن ریڈی راجیم‘‘ — اور مرکزی وزیر کی قیادت کا مذاق اڑاتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہر انتخاب میں بی سی چیف منسٹر بنانے کی بات کرتی ہے، مگر اقتدار کے بعد وہ وعدہ بھلا دیتی ہے۔ راجہ سنگھ نے سوال اٹھایا کہ کشن ریڈی کو وضاحت کرنی چاہیے کہ تلنگانہ بی جے پی میں بی سی برادری کی اصل حیثیت کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ انہوں نے ماضی میں ذات پات کے مسائل پر کبھی بات نہیں کی اور ہمیشہ ہندوتوا پر توجہ دی، مگر اب بولنا ضروری ہو گیا ہے کیونکہ کشن ریڈی بی سی کارڈ کا استعمال کر کے برادری کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
جوبلی ہلز ضمنی انتخاب پر سوالات | Raja Singh
راجہ سنگھ نے اس ہفتے کے اوائل میں سوشل میڈیا پر کشن ریڈی سے سوال کیا تھا کہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں وہ کتنے ووٹ کھونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام پوچھ رہے ہیں آیا وزیر چاہتے ہیں کہ اس نشست پر بی آر ایس جیتے یا کانگریس۔
ایم ایل اے نے نشاندہی کی کہ جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ سکندرآباد پارلیمانی حلقے کے تحت آتا ہے، جس کی نمائندگی خود کشن ریڈی کرتے ہیں۔ لہٰذا، راجہ سنگھ کے مطابق، اس ضمنی انتخاب کا نتیجہ براہ راست ان کی سیاسی حیثیت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راجہ سنگھ کے بیانات بی جے پی میں اندرونی اختلافات کی علامت ہیں۔ ان کے الزامات نے تلنگانہ بی جے پی کے اندر پسماندہ طبقات کی نمائندگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
