حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں ایک نیا موڑ آیا ہے جب ایم ایل سی اور تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا نے اپنے ریاست گیر دورے کا اعلان کیا، جس میں انہوں نے اپنے والد اور سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی تصویر شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے ریاست بھر میں شدید سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔
نئی مہم کا آغاز | Jagruthi Janam Baata
کویتا نے کہا کہ ان کی مہم ’جاگروتی جنم باٹہ‘ پروفیسر جیاشنکر کے نظریے سے متاثر ہے، جو ’’سماجی تلنگانہ‘‘ کے قیام پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کے پوسٹرز میں پروفیسر جیاشنکر کی تصویر استعمال کی جائے گی، جو ایک نئی سیاسی سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔
کویتا نے بتایا کہ یہ دورہ 25 اکتوبر سے شروع ہو کر 13 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ ان کے مطابق وہ ہر ضلع کا دورہ کریں گی، عوام سے ملاقات کریں گی اور ان کے مسائل سنیں گی۔ ہر دورہ دو دن پر مشتمل ہوگا۔
جوبلی ہلز میں جاگروتی دفتر پر پوسٹر کی نقاب کشائی کے موقع پر کویتا نے کہا، ’’ہم نے جغرافیائی تلنگانہ حاصل کیا ہے، مگر سماجی تلنگانہ ابھی باقی ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس نے انہیں انہی سوالات کے باعث پارٹی سے نکالا۔
کویتا نے یقین دلایا کہ تلنگانہ جاگروتی ’’سماجی تلنگانہ‘‘ کے مشن کو جاری رکھے گی، جو محض نعرہ نہیں بلکہ مساوات اور انصاف پر مبنی ایک پالیسی ہے۔
کے سی آر کی تصویر نہ لگانے کی وضاحت | Jagruthi Janam Baata
کویتا نے صاف طور پر کہا کہ ان کی یاترا کے پوسٹروں میں کے سی آر کی تصویر شامل نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق، ’’میں اب بی آر ایس کی رکن نہیں ہوں، اخلاقی طور پر کے سی آر کی تصویر استعمال نہیں کر سکتی۔‘‘ تاہم، انہوں نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کا مطلب بے ادبی نہیں ہے۔
انہوں نے کے سی آر کو بصیرت رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا، ’’میں نے اس درخت کو بچانے کی کوشش کی جس کا نام کے سی آر ہے۔ مگر اب جب میں اس کے سائے میں نہیں ہوں، تو اس کے نام پر زندہ نہیں رہ سکتی۔‘‘
کویتا نے مزید کہا کہ کے سی آر کی بیٹی ہونا ان کی زندگی کی سب سے بڑی سعادت ہے، ’’مگر جب راستے جدا ہوں، تو اخلاقاً اپنا راستہ اپنانا ہی درست ہے۔‘‘
حکومتوں پر تنقید اور عوامی اپیل | Jagruthi Janam Baata
کویتا نے کانگریس حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی مخالفین پر حملوں میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے دوسروں کو کوسنے میں وقت ضائع کر رہی ہے۔‘‘
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے تلنگانہ کی ترقی کو نظرانداز کیا۔ ’’آٹھ ایم پی جیتنے کے باوجود مرکز نے ریاست کو ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا،‘‘ انہوں نے کہا۔
کویتا نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومتوں کی پالیسیوں نے تلنگانہ کو غیر یقینی، مہنگائی اور انتظامی ناکامیوں میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دونوں حکومتوں سے جواب طلب کریں۔
کویتا کی ’جاگروتی جنم باٹہ‘ مہم تلنگانہ کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جا رہی ہے۔ ان کے اس قدم سے ریاستی سیاست میں نئی بحث اور ممکنہ اتحادوں کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
