حیدرآباد: جوبلی ہلز ضمنی انتخاب کی سرگرمیاں بدھ کے روز تیز ہو گئیں جب بی آر ایس امیدوار ماگنٹی سنیتا نے اپنے نامزدگی فارم داخل کیے۔ وہ بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر)، سابق وزیر تلاسانی سرینواس یادو، ایم ایل ایز پدماراؤ، راوُلا سریدھر ریڈی، دیدی پیا راؤ، وشنو وردھن ریڈی، راج کمار پٹیل، سمینہ یاسمین اور درجنوں کارکنان کے ہمراہ شیخ پیٹ تحصیلدار کے دفتر پہنچیں۔
بی آر ایس نے اس ضمنی انتخاب کو اپنی عزت و وقار کی جنگ قرار دیا ہے۔ پارٹی قائدین جوبلی ہلز کی نشست کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہے ہیں، جو مرحوم ایم ایل اے ماگنٹی گوپی ناتھ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
انتخابی شیڈول اور تیاریوں کا آغاز | Jubilee Hills By-Election
الیکشن حکام کے مطابق نامزدگیوں کا عمل 21 اکتوبر تک جاری رہے گا، جبکہ جانچ پڑتال 22 اکتوبر کو کی جائے گی۔ امیدوار 24 اکتوبر تک اپنے کاغذات واپس لے سکیں گے۔
جوبلی ہلز کے لیے پولنگ 11 نومبر کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو کی جائے گی۔ مکمل انتخابی عمل 16 نومبر کو اختتام پذیر ہوگا۔
بی آر ایس کا عزم اور حکمتِ عملی | Jubilee Hills By-Election
بی آر ایس کے مطابق جوبلی ہلز شہر کی ایک اہم شہری نشست ہے جسے برقرار رکھنا پارٹی کے لیے سیاسی طور پر ضروری ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ پارٹی تمام طبقات کے تعاون سے بھرپور مقابلہ کرے گی اور اس نشست کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
پارٹی کارکنان نے کہا کہ بی آر ایس کی کامیابی سابق ایم ایل اے ماگنٹی گوپی ناتھ کی خدمات کا تسلسل ہوگی۔ انتخابی مہم میں خواتین اور نوجوان کارکنوں کو بھی متحرک کیا جا رہا ہے۔
جوبلی ہلز ضمنی انتخاب بی آر ایس کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ پارٹی اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اُتری ہے، جبکہ مخالف جماعتیں بھی انتخابی ماحول کو گرم کر رہی ہیں۔
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ نومبر کے وسط تک ووٹر کس پارٹی کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں۔
