خان یونس: دو سال سے جاری غزہ جنگ میں تاریخی موڑ اس وقت دیکھنے کو ملا جب اسرائیل کی جانب سے رہا کیے گئے قیدیوں کو لے جانے والی متعدد بسیں پیر کے روز غزہ کے شہر خان یونس پہنچیں۔ یہ رہائیاں حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں عمل میں آئیں۔ موقع پر ہزاروں افراد نے جمع ہو کر قیدیوں کا والہانہ استقبال کیا اور فلسطینی و حماس کے پرچم لہراتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔
غزہ اور مغربی کنارے میں جشن | Gaza Ceasefire Deal
اسی دوران، مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رملہ میں بھی قیدیوں کو لانے والی بسیں پہنچیں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ نعرے لگاتے ہوئے ان کا استقبال کر رہے تھے۔ زیادہ تر وہ افراد تھے جنہیں جنگ کے دوران اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا تھا، تاہم 250 ایسے قیدی بھی شامل تھے جو مہلک حملوں میں ملوث پائے گئے یا سکیورٹی الزامات کے تحت قید تھے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ باقی 13 یرغمالیوں کو بھی وصول کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل پیر کو 7 یرغمالی پہنچ چکے تھے، جس پر تل ابیب کے “ہوسٹیج اسکوائر” میں موجود ہزاروں افراد نے خوشی سے نعرے لگائے، گلے ملے اور آنسوؤں کے ساتھ جشن منایا۔
یہ ایک عظیم دن اور نئی شروعات: ڈونالڈ ٹرمپ | Gaza Ceasefire Deal
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “یہ ایک عظیم دن ہے، ایک نئی شروعات ہے۔” انہوں نے عندیہ دیا کہ دو سالہ غزہ جنگ اب ختم ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق یہ رہائیاں جنگ بندی کے اس پہلے مرحلے کا حصہ ہیں جو گزشتہ ہفتے مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں طے پایا تھا، جہاں پیر کو عالمی رہنما پائیدار امن کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔
اس دوران اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو لے جانے والی بسیں بھی فلسطینی علاقوں کی جانب روانہ ہوئیں۔ غزہ کے ناصر اسپتال میں نقاب پوش افراد نے رہائی پانے والے قیدیوں کے استقبال کے لیے انتظامات کیے۔
ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنما شرم الشیخ میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں اس بات پر غور کریں گے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے آئندہ اقدامات کیسے کیے جائیں۔ دو سالہ جنگ نے غزہ کو تباہ کر دیا ہے، جہاں تقریباً تمام شہری بے گھر ہو چکے ہیں اور انسانی بحران اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔
