حیدرآباد: جوبلی ہلز ضمنی انتخاب کو ریاست کی بڑی سیاسی جماعتیں وقار کی جنگ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) نے اپنے مرحوم ایم ایل اے ماگنٹی گوپی ناتھ کی اہلیہ ماگنٹی سنیتا کو امیدوار نامزد کیا ہے، جبکہ حکمراں کانگریس نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کے ذریعے نوین یادو کا اعلان کیا۔
سیاسی حلقوں میں دلچسپی اس وقت بڑھی جب یہ بات سامنے آئی کہ نوین یادو کا تعلق بی آر ایس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر تلاسانی سرینواس یادو کے خاندان سے ہے۔ اس رشتے کے باعث یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا تلاسانی پارٹی سے زیادہ اپنے رشتہ دار کا ساتھ دیں گے؟
تلاسانی کا واضح مؤقف | Talasani Srinivas Yadav
سکندرآباد میں جمعہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے تلاسانی سرینواس یادو نے تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میرا خاندانی تعلق اپنی جگہ ہے، لیکن سیاسی وابستگی الگ چیز ہے۔ میں کسی اور پارٹی میں شامل نہیں ہوا، اور اب بھی بی آر ایس کے ساتھ ہوں۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں انہوں نے نوین یادو کو رہنمائی دی تھی، مگر اب کسی قسم کی حمایت سے انکار کیا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا“میں بی آر ایس کا ایم ایل اے ہوں، میرے مؤقف میں کوئی ابہام نہیں ہے،” ۔
پارٹی سرگرمیوں میں سرگرم | Talasani Srinivas Yadav
تلاسانی نے مزید بتایا کہ وہ حال ہی میں کے ٹی راما راؤ (KTR) کے ساتھ آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافے کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کی ہر سرگرمی میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں اور بی آر ایس کے نظریے کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہیں۔
ان کے اس بیان سے بی آر ایس کی صفوں میں پھیلی بے یقینی ختم ہو گئی، جبکہ پارٹی حلقوں نے ان کے مؤقف کو واضح اور مستحکم قرار دیا ہے۔
جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ تاہم تلاسانی سرینواس یادو کا مؤقف پارٹی اتحاد کو مضبوط کرتا نظر آ رہا ہے۔
