حیدرآباد: تلنگانہ کے وزرا پونم پربھاکر اور اڈلوری لکشمن کے درمیان جاری تنازعہ پارٹی صدر مہیش کمار گوڑ کی مداخلت کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ بدھ کی صبح پونم پربھاکر نے اڈلوری لکشمن سے ذاتی طور پر معافی مانگ لی، جس کے ساتھ ہی ایک ہفتے سے جاری سیاسی کشیدگی اختتام پذیر ہوئی۔
پونم پربھاکر کی معافی اور مفاہمت | Telangana Congress Unity
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب اطلاعات سامنے آئیں کہ پونم پربھاکر نے ایک حالیہ اجلاس کے دوران اڈلوری کے بارے میں نازیبا تبصرہ کیا۔ ان کے بیانات تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل گئے جس پر اڈلوری لکشمن نے سخت ردعمل دیا۔ بعد ازاں پونم نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کی نیت کسی کی توہین کرنا نہیں تھی۔
پونم پربھاکر نے اپنے بیان میں کہا، ’’میں اڈلوری لکشمن سے ان ریمارکس پر معافی مانگتا ہوں جن سے انہیں تکلیف پہنچی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر بھی معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کریم نگر میں مادیگا برادری کے ساتھ پروان چڑھے اور سب کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔
یہ پہلا موقع تھا جب پونم نے عوامی سطح پر اپنے تبصرے کو غلط تسلیم کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، ان کی اس معذرت نے کشیدگی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مہیش کمار گوڑ کی ثالثی سے اتحاد بحال | Telangana Congress Unity
جب تنازعہ شدت اختیار کرنے لگا تو پی سی سی چیف مہیش کمار گوڑ نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں وزرا کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے منگل کی صبح اپنے گھر پر ناشتے کی نشست رکھی جس میں پونم اور اڈلوری دونوں شریک ہوئے۔
میٹنگ کے دوران گوڑ نے دونوں رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ پارٹی مفاد کو ترجیح دیں اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ ان کی ثالثی کے بعد پونم نے باضابطہ طور پر معافی مانگی جسے اڈلوری نے قبول کر لیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، دونوں وزرا نے اتفاق کیا کہ کابینہ اور پارٹی اتحاد برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہیش کمار گوڑ کی بروقت مداخلت نے نہ صرف تنازعہ کو ختم کیا بلکہ پارٹی میں اتحاد اور ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنایا ہے۔ یہ واقعہ کانگریس قیادت کے اندر اختلافات حل کرنے کے مثبت رویے کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
