حیدرآباد ۔
سینئر کانگریس رہنما محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوبلی ہلز میں مسلمانوں کے لیے قبرستان کی زمین کی فراہمی احترامِ انسانیت کی علامت ہے۔ تاہم، انہوں نے اسے سماجی انصاف کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔
قبرستانی زمین کی حوالگی اور ترقیاتی منصوبے | Muslim Graveyard Land
رحمت نگر میں پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر پونم پرابھاکر، جی ویویک وینکٹ سوا می، محمد اظہرالدین، سید عظمت اللہ حسینی، فہیم قریشی اور دیگر رہنما موجود تھے۔ دریں اثنا، حکومت نے مسجد غیرآباد کے قریب شیخ پیٹ میں ایک ایکڑ پانچ گنٹھے زمین الاٹ کی۔ یہ جگہ رحمت نگر، ایرہ گڈہ، بورابنڈہ اور اطراف کے علاقوں کے لیے مخصوص ہوگی۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ جلد ہی قبرستان میں چار دیواری، چوکیدار کے کمرے اور غسل خانہ تعمیر کیا جائے گا۔ مزید برآں، ایک مقامی کمیٹی ترقیاتی کاموں کی نگرانی کرے گی۔ ادھر، ایک قریبی قطعہ زمین جس میں رسائی کا مسئلہ ہے، قانونی کارروائی مکمل ہوتے ہی حوالہ کر دیا جائے گا۔
سماجی انصاف، فلاحی اسکیمیں اور تعلیم | Muslim Graveyard Land
انہوں نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا۔ ان کے مطابق، مفت بس سفر، راشن کارڈ اور فائن رائس جیسی اسکیمیں تمام برادریوں کے لیے ہیں۔ اس دوران، حکومت نے 13 برس بعد نئے راشن کارڈ جاری کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ اب ان بچوں کو بھی فائدہ ملے گا جو اس عرصے میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نظام آباد شہری علاقے میں 1,300 مسلم خاندانوں کے لیے مکانات منظور کیے۔ مزید برآں، پانچ لاکھ روپئے کی اندراما ہاؤسنگ سبسڈی ہر مستحق خاندان کو دی جا رہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ غربت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہم ضرورت کے مطابق مدد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں 65 نئے آئی ٹی آئی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ ان اداروں میں جدید تربیت فراہم کی جا رہی ہے، مثلاً روبوٹک ویلڈنگ، گارمنٹ آٹومیشن اور فوڈ پروسیسنگ۔ اس دوران، ٹی سی ایس اور دیگر کمپنیاں بھرتی میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔
دریں اثنا، محمد علی شبیر نے وزیر اڈلوری لکشمن کمار کے ساتھ ایرہ گڈہ میں ٹی ایم آر ای آئی ایس گرلز جونیئر کالج کا سنگِ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ 2004 میں متعارف کردہ 4 فیصد مسلم کوٹہ سے ہزاروں طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع حاصل ہوئے۔ نتیجتاً 2024–25 میں 1,226 مسلم طلبا میں سے 741 طالبات ایم بی بی ایس نشستوں میں کامیاب ہوئیں۔
آخر میں، محمد علی شبیر نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور وقف بورڈ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف وعدہ نہیں کیا بلکہ قبرستان کی زمین حقیقت میں فراہم کی ہے۔
