حیدرآباد ۔
تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اتوار کے دن ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا سے بی سی ریزرویشن کیس پر بات چیت کی۔ گفتگو سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمہ سے متعلق قانونی حکمت عملی پر مرکوز رہی۔
حکومت کی قانونی تیاریوں کا جائزہ | BC Reservation Case
ریاستی حکومت نے پہلے جی او نمبر 9 جاری کیا۔ اس کے تحت بلدیاتی انتخابات میں بیک ورڈ کلاسز کے لیے 42 فیصد نشستیں مخصوص کی گئیں۔ ان نشستوں میں زیڈ پی ٹی سی، ایم پی ٹی سی، سرپنچ اور وارڈ ممبر شامل ہیں۔
درخواست گزار ونگا گوپال ریڈی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوٹہ 50 فیصد کی عدالتی حد سے تجاوز کرتا ہے۔
گفتگو کے بعد بھٹی وکرمارکا کو دہلی روانہ ہونے کی ہدایت دی گئی۔ انہیں عدالتی کارروائی کی نگرانی کا ذمہ دیا گیا ہے۔ ریاستی وزرا اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش گوڑ ان کے ساتھ ہوں گے۔ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی حکومت کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کریں گے۔
سپریم کورٹ کی سماعت اور سیاسی ردِعمل | BC Reservation Case
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بھٹی وکرمارکا کے ساتھ قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی منظوری سے منظور شدہ قانون کا دفاع ہر حال میں کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ریزرویشن سماجی انصاف کے عزم کی علامت ہے۔
دریں اثنا، تلنگانہ ہائی کورٹ نے سوال اٹھایا کہ جب مقدمہ زیرِ سماعت ہے تو بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیوں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ گورنر کی منظوری سے پہلے جی او کیوں جاری کیا گیا۔
ایک اور درخواست مدھاو ریڈی نے دائر کی ہے۔ اس کی سماعت 8 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔
ریاست میں اس معاملے نے سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر اثر ڈال سکتا ہے۔
