حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے سینئر لیڈر شیخ عبداللہ سہیل نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی بالواسطہ طور پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں حمایت کر رہے ہیں۔ Shaik Abdullah Sohail نے کہا کہ اس طرز عمل سے مسلم ووٹ تقسیم ہوں گے جس کا براہِ راست فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔
سہیل نے یاد دلایا کہ اویسی نے ماضی میں ریونت ریڈی کو ’’آر ایس ایس کا ایجنٹ‘‘ کہا تھا، لیکن آج وہ ان کے حق میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اویسی کی خاموشی ’’آر ایس ایس کے ٹلو یا بڑے بھائی نریندر مودی کے دباؤ‘‘ کا نتیجہ ہے؟
اویسی پر دوہری پالیسی کا الزام
بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ مجلس بہار میں کانگریس کے خلاف مقابلہ کرتی ہے لیکن تلنگانہ میں اسی کانگریس کی حمایت کرتی ہے۔ ان کے مطابق عوام کو اس تضاد کا جواب چاہیے۔ سہیل نے مزید کہا کہ ریونت ریڈی کی ٹیم کا تیار کردہ ایک مکتوب ایم آئی ایم کے شیخ پیٹ اجلاس میں پڑھا گیا، جس میں بورابنڈہ، احمد نگر، ایررا گڈہ، یوسف گوڑہ اور وینگل راؤ نگر کے ترقیاتی کاموں کا ذکر تھا۔ ساتھ ہی پیلی درگاہ کے قریب قبرستان کی زمین دینے کا وعدہ بھی شامل تھا جو سابق ایم ایل اے گوپی ناتھ کے دور سے زیر التواء ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے 22 ماہ کے دوران مسلمانوں کو نہ تو کابینہ میں جگہ دی، نہ ایم ایل سی نشستیں اور نہ ہی اقلیتی بہبود کے فوائد۔ اس کے باوجود اویسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، جبکہ ان کے حلقے میں مساجد، قبرستان اور عاشورخانے تک مسمار کیے گئے۔
Shaik Abdullah Sohail نے یاد دلایا کہ پارلیمانی انتخابات میں اویسی کی اپیلوں کے نتیجے میں بی جے پی نے کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جوبلی ہلز میں مسلم ووٹ تقسیم ہوئے تو یہ نشست بھی بی جے پی کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔
