حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں مقامی ادارہ انتخابات کے لئے نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی بڑی سیاسی جماعتوں نے مالی طور پر مستحکم اور مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے امیدواروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ Panchayat Elections میں نشستوں کی ازسرنو تقسیم سے کئی مقامی قائدین مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔
کئی قائدین جنہوں نے منڈل پریشد علاقائی حلقوں اور سرپنچ عہدوں کے لئے طویل عرصے تک کارکنان کو منظم کیا تھا اب مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ ان کی توقع کے برعکس نشستیں مخصوص زمروں کے تحت مختص کر دی گئی ہیں۔ بعض افراد پراکسی امیدواروں کو میدان میں اتارنے پر غور کر رہے ہیں لیکن اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کامیابی کے بعد ان کی وفاداری برقرار رہے گی یا نہیں۔
چند منڈلوں میں منڈل پریشد صدر کا عہدہ درج فہرست قبائل کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں جماعتوں کے قائدین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایسے امیدوار سامنے آئیں جو پارٹی کا پرچم بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی مؤثر ثابت ہو سکیں۔
کانگریس، بھارت راشٹرا سمیتی، بھارتیہ جنتا پارٹی، تلگو دیشم، کمیونسٹ پارٹیاں اور آزاد امیدوار اپنی پوری قوت کے ساتھ نامزدگیاں داخل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بعض پنچایتوں میں عام نشستوں پر زبردست دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے کیونکہ ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے سے نائب سرپنچ کے عہدے تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔
مقامی سیاست میں دباؤ اور خدشات
انتخابی ماحول میں شدت آتے ہی امیدوار اتحاد، نشستوں کی تقسیم اور پس پردہ مذاکرات میں مصروف ہو چکے ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات پنچایت کے نتائج جماعتی وابستگی سے زیادہ امیدوار کی شخصی ساکھ پر منحصر ہوتے ہیں۔
خواتین Panchayat Elections نشستوں پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ پچھلے انتخابات میں کامیاب خواتین امیدواروں کو ان کے شوہروں نے پس پردہ کر دیا تھا اور اصل اختیار خود استعمال کیا تھا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پنچایت راج قانون پر سختی سے عمل آوری ضروری ہے تاکہ صرف منتخب سرپنچ ہی اپنے عہدے کا استعمال کرے۔
کارکنوں میں یہ اندیشہ بھی پایا جا رہا ہے کہ جماعتیں دیرینہ خدمات انجام دینے والے کارکنوں کے بجائے دولت مند نئے آنے والوں کو ترجیح دیں گی۔ ایک مقامی لیڈر نے کہا اگر محنت کرنے والے کارکنوں کو عزت دی گئی تو ہماری جدوجہد بامعنی ہوگی لیکن اگر ٹکٹ صرف پیسے والوں کو دیے گئے تو کارکنوں میں مایوسی پھیل جائے گی۔
عوام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی قیادت درکار ہے جو مقامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہو۔ تاہم مخصوص زمروں کی وجہ سے کئی امیدیں دم توڑ گئی ہیں، جس کے باعث اس مرتبہ کے انتخابات پہلے کے مقابلے زیادہ غیر یقینی سمجھے جا رہے ہیں۔
