حیدرآباد ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے غزہ کے لئے ایک نیا امن منصوبہ طے کیا ہے اور حماس کو اسے قبول کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ اس Gaza Peace Plan کے مطابق فوری طور پر فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی اور حماس 72 گھنٹوں کے اندر 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کے ساتھ ان درجنوں افراد کی لاشیں بھی حوالے کرے گی جنہیں مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کے بدلے میں اسرائیل سیکڑوں قیدی غزہ کے حوالے کرے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ حماس کے نمائندوں کو وائٹ ہاؤس کی 20 نکاتی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں شرط رکھی گئی ہے کہ حماس غزہ کی حکمرانی میں شامل نہیں ہوگی اور مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ امن کے لئے ایک تاریخی دن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس اس منصوبے کو قبول نہ کرے تو امریکہ اسرائیل کو حماس کے خطرے کا مکمل خاتمہ کرنے میں حمایت دے گا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حماس نے تجویز رد کی یا اس پر عمل نہ کیا تو اسرائیل کام مکمل کر دے گا۔
فلسطینی اتھارٹی اور عالمی ردعمل
فلسطینی اتھارٹی نے امریکی صدر کی کوششوں کو مخلصانہ اور پرعزم قرار دیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی قیادت امریکہ، علاقائی ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے، غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل اور قیدیوں و یرغمالیوں کی رہائی کے لئے تعاون جاری رکھے گی۔
ٹرمپ کے منصوبے میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ محاذی لائنوں کو عارضی طور پر منجمد کیا جائے گا اور حماس اپنے ہتھیار ڈال دے گی جبکہ سرنگیں اور اسلحہ ساز مراکز تباہ کر دیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے میں اسرائیل 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرے گا۔
Gaza Peace Plan کے تحت دونوں فریق معاہدے پر راضی ہوتے ہی فوری طور پر مکمل انسانی امداد غزہ بھیجی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی مستقبل کی حکمرانی کے لئے ایک تکنیکی اور غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی نگرانی “بورڈ آف پیس” نامی بین الاقوامی عبوری ادارہ کرے گا جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کے پاس ہوگی۔
اس بورڈ میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے جنہوں نے اس منصوبے کو جرات مندانہ اور دانشمندانہ قرار دیا۔
