حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر Harish Rao نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت نے عوامی آواز کو دبانے کے لیے پولیس جبر کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے نلگنڈہ ضلع میں ایک قبائلی نوجوان پر پولیس تشدد کے واقعہ پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہریش راؤ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر اس مسئلے کو اجاگر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان صرف یوریا کے مطالبے پر احتجاج میں شامل ہوا تھا، کیا یہ کوئی جرم ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے نوجوان کو ذات پات کی بنیاد پر گالیاں دیں اور پھر زبردستی اسٹیشن لے جا کر ہتھکڑیاں ڈال کر لاٹھیوں سے تشدد کیا۔
اندراما راجیم‘‘ یا جمہوریت؟
ہریش راؤ نے سوال کیا کہ کیا ایسے تھرڈ ڈگری طریقے ’’اندراما راجیام‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں؟ ان کے مطابق کانگریس حکومت میں جمہوریت کے بجائے انارکی پھیل چکی ہے جہاں اختلاف رائے رکھنے والوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، ان پر مقدمات قائم کیے جاتے ہیں اور گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔
Harish Rao نے کہا کہ متاثرہ نوجوان اب زخموں کے باعث چلنے کے قابل نہیں رہا اور اسے انصاف ملنا ضروری ہے۔ ہریش راؤ کے مطابق حکومت کو اس نوجوان کے مستقبل کی پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ప్రజా పాలన పేరిట కాంగ్రెస్ ప్రభుత్వం సాగిస్తున్న దమనకాండకు నల్గొండ జిల్లాలో జరిగిన ఘటన మరో నిదర్శనం.
యూరియా కావాలంటూ ధర్నాలో పాల్గొనడమే ఈ గిరిజన యువకుడు చేసిన పాపమా?
కులం పేరుతో దూషిస్తూ పోలీసు స్టేషన్ కు లాక్కెళ్లి, కాళ్లు కట్టేసి లాఠీలతో బాదడమేనా.. ప్రజాస్వామ్యం?
యూరియా… pic.twitter.com/VM4VvcK8Pc
— Harish Rao Thanneeru (@BRSHarish) September 24, 2025
