حیدرآباد ۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) تلنگانہ کے ریاستی سکریٹری جان ویسلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریجنل رنگ روڈ RRR Alignment میں تبدیلیوں اور کسانوں کے معاوضہ پر اپنی پالیسی واضح کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسانوں کی رائے لیے بغیر یا گرام سبھا کے مشورے کے بغیر اراضی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت ہوگی۔
جان ویسلی نے کہا کہ حکومت کو شفاف پالیسی کا اعلان کر کے تنازعہ سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سب سے پہلے 100 میٹر چوڑے آر آر آر کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جو 8 اضلاع، 33 منڈل اور 163 دیہات پر مشتمل تھا۔ بعد ازاں حکومت نے ریلوے لائن کے لیے مزید 40 فٹ کی توسیع کا بھی اعلان کیا۔
تاہم بعد میں عہدیداروں نے تین مختلف الائنمنٹس جاری کیے۔ ان تبدیلیوں نے کسانوں کے شبہات میں اضافہ کر دیا۔ ویسلی کے مطابق تازہ ترین راستے میں بااثر افراد کی اراضیات کو خارج کر دیا گیا اور نشانہ چھوٹے اور معمولی کسان بنے جن کے پاس صرف 1 سے 3 ایکڑ زمین ہے۔ اس وجہ سے جانبداری اور سیاسی دباؤ کے الزامات مزید تقویت پا گئے۔
کسانوں میں بے چینی اور احتجاج کی تیاری
دریں اثنا انہوں نے زور دیا کہ کئی کسان اپنی پوری روزی روٹی کے لیے انہی زمینوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ چند امیر زمین داروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے چھوٹے کسانوں کو قربان کیا جا رہا ہے۔ ویسلی نے اعلان کیا کہ سی پی آئی (ایم) اس پالیسی کی سخت مخالفت کرے گی۔
RRR Alignment پر باتے کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سی پی آئی (ایم) 23 ستمبر کو حیدرآباد میں اجلاس منعقد کرے گی جس میں پارٹی قائدین کے ساتھ ساتھ متاثرہ کسانوں کے ضلع اور منڈل نمائندے بھی شرکت کریں گے تاکہ آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
