حیدرآباد ۔
بھارتیہ راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے سینئر رہنما شیخ عبداللہ سہیل نے اتوار کے روز الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کوڈنگل حلقے میں قبرستانوں کے انہدام کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
Kodangal
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سہیل نے کہا کہ یہ انہدام ہفتہ کی رات دیر گئے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے آبائی حلقے کوڈنگل میں انجام دیا گیا۔ ان کے مطابق متاثرہ مقامات میں دو درگاہیں، دو عاشور خانہ، اور حضرت محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا چلہ مبارک شامل ہے۔ اس کے علاوہ کئی قبریں اور چار دیواری بھی مسمار کی گئیں۔
سہیل نے یاد دلایا کہ ریونت ریڈی نے انتخابی مہم کے دوران اسی چلہ مبارک پر دعا مانگی تھی۔ انہوں نے اس اقدام کو نہ صرف غیر حساس بلکہ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی قرار دیا۔
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ ماضی کی حکومتیں قبرستانوں کے قریب زمین حاصل کرنے سے پہلے مذہبی کمیٹیوں سے مشاورت کیا کرتی تھیں، لیکن موجودہ حکومت نے تمام روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ کارروائی کی۔
مسلمانوں کی طویل عرصے سے جاری جدوجہد اور حکومتی بے حسی
سہیل نے متنبہ کیا کہ ایسے اقدامات سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مسلمانوں نے بورابندا، رحمت نگر، ایرہ گڈہ، یوسف گوڑہ اور وینگل راو نگر میں برسوں سے قبرستان کے لیے جگہ کے مطالبات کیے ہیں، لیکن کانگریس حکومت نے اب تک ان مطالبات کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب مردوں کو بھی بخشا نہیں جاتا، تو یہ پورے طبقے کی مکمل ناقدری کو ظاہر کرتا ہے۔ سہیل نے صوفی درگاہوں سے وابستہ مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مرحلے پر خاموشی اختیار نہ کریں۔ ان کے مطابق اس وقت خاموشی اختیار کرنا، بزرگان دین سے غداری کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اتر پردیش جیسی “بلڈوزر سیاست” کو اب تلنگانہ میں بھی لاگو کر دیا ہے۔ پہلے غریبوں کے گھروں کو HYDRAA کے ذریعے منہدم کیا گیا، اور اب مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Kodangal
شیخ عبداللہ سہیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کانگریس حکومت کو اس کے گزشتہ 22 ماہ کی کارکردگی کا جواب دیں۔
