حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ٹی سیٹ (تلنگانہ اسکلز اکیڈمکس اینڈ ٹریننگ) کو آئندہ نئی تعلیمی پالیسی میں شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر ویم نریندر ریڈی نے یہ بات جمعہ کے روز حیدرآباد کے جوبلی ہلز میں واقع ٹی سیٹ دفتر کے دورے کے دوران کہی۔ یہ فیصلہ T-SAT Education Policy کے تحت طلبہ کو زیادہ ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹی سیٹ کے سی ای او بوداناپلی وینوگوپال ریڈی نے نریندر ریڈی کا پھولوں اور شال کے ساتھ خیرمقدم کیا۔ بعد ازاں، نریندر ریڈی نے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اسٹوڈیو کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کیا جائے گا۔
تعلیم کو عالمی ماڈل بنانے کا عزم
جائزہ اجلاس میں نریندر ریڈی نے وضاحت کی کہ وزیر اعلیٰ اے ریونتھ ریڈی تلنگانہ کے تعلیمی شعبے کو عالمی ماڈل بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں تعلیم کے شعبے میں کئی اصلاحات پہلے ہی متعارف کرائی جا چکی ہیں۔ نئی پالیسی میں ٹی سیٹ کے شراکت دار بننے اور اس کے ڈیجیٹل نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کی تصدیق کی گئی۔ اس طرح ریاست کے تمام طلبہ کو وسیع تعلیمی سہولتیں حاصل ہوں گی۔
قومی سطح پر ٹی سیٹ کی کامیابی
نریندر ریڈی نے کہا کہ ٹی سیٹ کو اس بات پر مبارکباد دی جانی چاہیے کہ اس نے تعلیمی براڈکاسٹ چینلز میں پورے بھارت میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ اس نیٹ ورک نے دوسرے مقام سے ترقی کرتے ہوئے 48 لاکھ صارفین تک رسائی حاصل کی، جو سیٹلائٹ، کیبل اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے ذریعے ممکن ہوا۔
انہوں نے سی ای او وینوگوپال ریڈی کی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ ٹی سیٹ اپنی اولین پوزیشن برقرار رکھ سکے۔ مزید برآں، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ T-SAT Education Policy نہ صرف طلبہ اور نوجوانوں بلکہ دیگر شعبوں کے لیے بھی اپنی خدمات فراہم کرے گا۔
