حیدرآباد: انڈیا میٹیرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مرتیونجے موہاپاترا نے کہا ہے کہ انسانیت زراعت اور باغبانی کو صرف اسی وقت محفوظ رکھ سکتی ہے جب موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کو مشترکہ طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے جمعرات کے روز خبردار کیا کہ چھوٹے اور معمولی کسان سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں، اس لیے ان کے لیے فوری مدد ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر موہاپاترا نے وضاحت کی کہ موسمیاتی تبدیلی نہ صرف کسانوں اور عام شہریوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ محکمہ موسمیات کے لیے بھی مشکلات کھڑی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ادارے نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مضبوط حکمت عملی پر عمل شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ Climate Change Telangana کے اثرات واضح ہیں اور اس کے خلاف مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
زراعت میں نئی حکمت عملی کی ضرورت
ڈاکٹر موہاپاترا نے باغبانی اور موسمیاتی تبدیلی پر منعقدہ سیمینار میں کہا کہ محکمہ کی پیشین گوئیوں کی درستگی صرف 40 سے 50 فیصد تک محدود ہے، تاہم ملٹی فورکاسٹ ماڈلز سے اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دور دراز دیہاتوں کے کسانوں تک بھی ایسے آلات پہنچنے چاہئیں جو انہیں موسمی دباؤ سے نمٹنے کے قابل بنائیں۔
ان کے مطابق کاشت کے طریقے، فصلوں کا انتخاب اور زراعت کے اصولوں میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی فصلوں پر تحقیق ضروری ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برداشت کر سکیں اور اعلیٰ معیار کے ساتھ زیادہ پیداوار فراہم کریں۔ مزید برآں، انہوں نے عوامی بیداری کے لیے مسلسل رابطے پر زور دیا تاکہ ہر شہری موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھ سکے۔
ماہرین کی آراء اور تعاون
سکریٹری زراعت رگھونندن راؤ نے کہا کہ اب تک تحقیق اور پالیسیاں قومی غذائی سلامتی پر مرکوز تھیں، لیکن اب ہدف کو غذائیت کی سلامتی کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق Climate Change Telangana ان مقاصد کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اس لیے ماہرین موسمیات، سائنس داں اور تکنیکی ماہرین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ہاؤرٹیکلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ڈانڈا راجی ریڈی نے کہا کہ ادارہ کسانوں کو ہر ممکنہ سائنسی اور تحقیقی سہولت فراہم کرے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت، محکمہ زراعت اور یونیورسٹی مل کر کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
سیمینار میں بھرپور شرکت
محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر شیخ یاسمین باشا، نابارڈ کے چیف جنرل منیجر کے اُدے بھاسکر، برلاگ انسٹیٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے رہنما ڈاکٹر پرمود کمار اگروال، یونیورسٹی رجسٹرار ڈاکٹر بھگوان سمیت متعدد ماہرین، سائنس داں اور طلبہ نے سیمینار میں حصہ لیا۔
