حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ریاست بہت جلد ایک New Education Policy متعارف کرے گی جس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات شامل ہوں گی۔ انہوں نے سکریٹریٹ میں اس پالیسی کے مسودہ فریم ورک کا جائزہ لیا اور زور دیا کہ ریاستی پالیسی اتنی مضبوط ہو کہ قومی اصلاحات پر بھی اثرانداز ہو سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غربت کا خاتمہ صرف تعلیم کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہر سال 1.10 لاکھ انجینئرنگ طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 15 فیصد کو ہی ملازمتیں ملتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے تعلیم کے لیے 21,000 کروڑ روپئے مختص کیے ہیں جن میں سے 98 فیصد صرف تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔
اسکول اور اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کی ضرورت
ریونت ریڈی نے کہا کہ اسکولی تعلیم میں سنگین خلا موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 11,000 خانگی اسکولوں میں 34 لاکھ طلبہ پڑھتے ہیں، جبکہ 27,000 سرکاری اسکولوں میں صرف 18 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔ اس لیے پہلی جماعت سے بارہویں تک جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹی کے کردار کو یاد کیا جنہوں نے تلنگانہ کی تعلیمی تاریخ کو سنوارا۔ مزید کہا کہ اب حکومت کو آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری مضبوط بنانی ہوگی۔ انہوں نے ماہرین پر زور دیا کہ وہ عملی تجاویز پیش کریں تاکہ 73 لاکھ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے مرکزی وزیر خزانہ سے درخواست کی ہے کہ تعلیمی قرضوں کو ایف آر بی ایم حدود سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ حقیقی تعلیمی اصلاحات New Education Policy کے لیے کسی بھی سیاسی رکاوٹ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
పేదరిక నిర్మూలన…
జరగాలంటే విద్య ఒక్కటే మార్గం…తెలంగాణ నూతన విద్యా విధానం సమీక్ష లో సీఎం రేవంత్ రెడ్డి గారి స్పీచ్ పాయింట్స్
విద్యా విధానం లో సమూల మార్పులు,ప్రక్షాళన చేయాలని మా ప్రభుత్వం నిర్ణయించింది..
నూతన పాలసీ వల్ల విద్యా విధానం లో మార్పు లతో పాటు పేదరిక నిర్మూలన… pic.twitter.com/YdXm0zK4ph
— Congress for Telangana (@Congress4TS) September 17, 2025
