حیدرآباد: تلنگانہ گروپ-1 کے کامیاب امیدواروں کے والدین نے منگل کے روز سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے بچوں کی محنت سے حاصل کردہ کامیابی کو سیاسی تنازعات میں نہ گھسیٹیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ اعلیٰ رینک رشوت کے ذریعے حاصل کیے گئے، جس کی مبینہ رقم 3 کروڑ روپئے تک بتائی جا رہی ہے۔
سوماجی گوڑہ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں Group-1 Rankers کے جذباتی والدین اور کئی امیدواروں نے ان الزامات کو بے بنیاد اور نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنما ثبوت فراہم کریں ورنہ بے دلیل بیانات سے طلبہ کا مستقبل خراب ہو رہا ہے۔
ایک امیدوار کے والد نے کہا کہ براہ کرم گروپ-1 کے نتائج کو سیاست کا حصہ نہ بنائیں۔ اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو سامنے لایا جائے، ورنہ یہ دعوے ہمارے بچوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
والدین کی قربانیاں
متعدد خاندانوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تیاری کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ کئی والدین نے قرض لیے، اضافی اوقات میں کام کیا اور ضروریات زندگی ترک کیں تاکہ بچوں کی کوچنگ ممکن ہو سکے۔ ایک والدہ نے کہا کہ ہم نے کھانے چھوڑ کر کوچنگ کا خرچ برداشت کیا۔ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ رینک خریدے گئے؟ یہ دل توڑ دینے والی بات ہے۔
یہ تنازع 9 ستمبر کو ہائی کورٹ کے 222 صفحات پر مشتمل فیصلے کے بعد شدت اختیار کر گیا۔ عدالت نے 12 درخواستوں پر سماعت کی تھی جن میں گروپ-1 امتحان کے نتائج منسوخ کرنے یا ان کی حفاظت کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
ایک امیدوار کی والدہ للتا نے، جس کے بیٹے نے 67واں رینک حاصل کیا، کہا کہ اس نے برسوں کی محنت سے کامیابی پائی ہے۔ ان کے مطابق ہمارے پاس 3 کروڑ کیا، 30 لاکھ روپئے بھی نہیں ہیں۔ یہ افواہیں ہماری محنت کی توہین ہیں۔
اسی طرح 46ویں رینک حاصل کرنے والے امیدوار کے والد نے کہا کہ ہمارے بچوں کو سیاسی فائدے کے لیے نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ انہوں نے محنت سے کامیابی حاصل کی ہے، براہ کرم انہیں سیاست سے دور رکھیں۔
