حیدرآباد: تلنگانہ آروگیہ شری نیٹ ورک ہاسپٹلس اسوسی ایشن TANHA، جو ریاست کے 330 اسپتالوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے 16 ستمبر رات 11:59 بجے سے آروگیہ شری کے تحت کیش لیس خدمات معطل کر دیں۔ اسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت سے بات چیت کے باوجود Aarogyasri Health Scheme کے بقایا جات کی ادائیگی پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
اسپتالوں کی مالی مشکلات اور ناکام مذاکرات
TANHA کے صدر ڈاکٹر ودیراجو راکیش نے بتایا کہ اسپتال شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ حکومت نے بلوں کی ادائیگی نہیں کی۔ ان کے مطابق خانگی اسپتالوں کے بقایا جات اب 1,000 کروڑ روپئے سے تجاوز کر گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 دنوں میں TANHA نمائندوں نے وزیر صحت ملو بھٹی وکرمارکا اور آروگیہ شری ہیلتھ کیئر ٹرسٹ کے سی ای او سے کئی ملاقاتیں کیں، لیکن حکومت نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسپتالوں کے پاس خدمات معطل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بقایا جات کی ادائیگی کے مطالبے کی حمایت کریں۔
حکومت کا مؤقف
وزیر صحت کے دفتر نے وضاحت کی کہ حکومت نے پچھلے 20 ماہ میں آروگیہ شری کے تحت 1,900 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جو اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ حکام نے اس بوجھ کے لئے سابقہ بی آر ایس حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ ساتھ ہی بتایا کہ کانگریس حکومت نے 15 ستمبر کو ہی مزید 100 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔
اسکیم کا پس منظر
Aarogyasri Health Scheme غریب خاندانوں کو مفت طبی اور جراحی علاج فراہم کرتی ہے۔ یہ اسکیم پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پر چلتی ہے، جہاں خانگی اسپتال علاج فراہم کرتے ہیں اور حکومت آروگیہ شری ہیلتھ کیئر ٹرسٹ کے ذریعہ ان کی ادائیگی کرتی ہے۔
اس سال کے اوائل میں بھی TANHA نے ہڑتال کی دھمکی دی تھی لیکن حکومت کی یقین دہانی پر فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔ بقایا جات بدستور باقی رہنے کے بعد اب اسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ غیر معینہ مدت تک خدمات معطل رہیں گی جب تک حکومت ادائیگی نہیں کرتی۔
