حیدرآباد: کانگریس کی رکن پارلیمان Renuka Chowdhury نے منگل کے روز بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کو نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں غیر حاضر رہنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس فیصلے کو شرمناک قرار دیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بی آر ایس کبھی تلنگانہ تحریک کی علمبردار رہی ہے تو پھر ایک تلگو امیدوار کو ملک کے سب سے بڑے دستوری عہدوں میں سے ایک کے لیے کیوں حمایت نہ دی گئی۔ رینوکا چودھری نے کہا کہ بی آر ایس کی یہ حرکت ثابت کرتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بی آر ایس ایک ہی ہیں اور دونوں مل کر سیاسی ڈرامہ رچاتے ہیں۔
کانگریس ارکان پارلیمان کی حمایت
Renuka Chowdhury نے واضح کیا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے تمام کانگریس ارکان پارلیمان انڈیا بلاک کے امیدوار بی سدرشن ریڈی کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جیت یا ہار ہماری جگہ طے ہے، ہمارا ووٹ سدرشن ریڈی کے لیے ہی ہوگا۔
کانگریس کے رکن پارلیمان ملو روی نے امید ظاہر کی کہ آخر میں کوئی معجزہ بھی ہو سکتا ہے اور کراس ووٹنگ کے ذریعے سدرشن ریڈی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انڈیا بلاک کا امیدوار کامیاب ہوتا ہے تو جمہوریت باقی رہے گی اور اس وقت قوم کا مزاج بھی سدرشن ریڈی کے حق میں ہے۔
نتیجہ
رینوکا چودھری کی سخت تنقید کے بعد تلنگانہ میں نائب صدراتی انتخاب پر سیاسی ماحول میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ کانگریس نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ انڈیا بلاک کے امیدوار سدرشن ریڈی کے ساتھ کھڑی ہے۔
