حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے دہلی میں تلنگانہ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ Telugu Unity Appeal کے ضمن میں منگل کے روز ناشتے کی نشست منعقد کی۔ چیف منسٹر آفس کے مطابق اس موقع پر انہوں نے نائب صدر کے انتخاب سے قبل ارکان کو حکمت عملی سے آگاہ کیا۔
ریونت ریڈی پیر کی رات دہلی پہنچے تھے تاکہ انڈیا بلاک کے امیدوار، سابق جج بی سدھرشن ریڈی کے حق میں حمایت حاصل کریں۔ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ان پارٹیوں سے بھی رابطہ کر رہے تھے جو انڈیا بلاک کا حصہ نہیں ہیں، تاکہ آخری لمحات میں تائید حاصل کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ سدھرشن ریڈی کی امیدواری میں بھی ریونت ریڈی کا کلیدی کردار رہا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ذات پات سروے پر ماہرین کی آزادانہ کمیٹی کی رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی، جس کی سربراہی سدھرشن ریڈی نے کی تھی۔
Telugu Unity Appeal کی ناکام کوشش
وزیراعلیٰ نے اپنی مہم کے دوران تیلگو وقار کا نعرہ بلند کیا جو کبھی تلگو دیشم پارٹی کے بانی این ٹی راماراؤ نے دیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں نیلم سنجیوا ریڈی، پی وی نرسمہا راؤ اور ایم وینکیا نائیڈو جیسے رہنماؤں کو تیلگو شناخت کی بنیاد پر دو جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے دونوں ریاستوں کی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ سدھرشن ریڈی کو ایک تیلگو امیدوار کے طور پر تعاون دیں۔
تاہم، یہ Telugu Unity Appeal کامیاب نہ ہوسکی۔ بی آر ایس نے اپنے چار راجیہ سبھا ارکان کے ساتھ ووٹنگ سے دور رہنے کا اعلان کیا۔ تلگو دیشم اور جنا سینا، جو این ڈی اے کے اتحادی ہیں، نے حکمران اتحاد کی حمایت کی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے بھی این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کی حمایت کا اعلان کردیا۔
کانگریس کے پاس اس وقت تلنگانہ سے آٹھ لوک سبھا اور تین راجیہ سبھا ارکان ہیں، تاہم آندھرا پردیش سے اس کی کوئی پارلیمانی نمائندگی موجود نہیں ہے۔
తెలంగాణ కాంగ్రెస్ ఎంపీలతో
ఈ రోజు ఉదయం నా నివాసంలో
బ్రేక్ ఫాస్ట్ సమావేశం నిర్వహించాను.ఉప రాష్ట్రపతి
ఎన్నికల పోలింగ్ నేపథ్యంలో
ఎంపీలకు దిశానిర్దేశం చేశాను#VicePresidentialElections pic.twitter.com/MhGTuQnB9r— Revanth Reddy (@revanth_anumula) September 9, 2025
