حیدرآباد: سابق رکن پارلیمان کلواکنٹلہ کویتا نے پیر کے روز الزام عائد کیا کہ کانگریس نے پسماندہ طبقات (بی سی) کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں پر کوئی عمل نہیں کیا۔ ان کا یہ بیان Kavitha On BC Reservations کے طور پر ریاستی سیاست میں زیر بحث ہے۔
بنجارہ ہلز میں تلنگانہ جاگروتی دفتر میں 70 سے زائد بی سی طبقات کے رہنماؤں کے ساتھ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ریاست میں بی سی طبقات کے لیے 42 فیصد ریزرویشن یقینی بنانے کی حکمتِ عملی تیار کی جائے گی۔
کانگریس پر بی سی اعلامیہ کو نظرانداز کرنے کا الزام
کویتانے کہا کہ کانگریس نے کاماریڈی بی سی اعلامیہ سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی وضاحت کریں کہ تلنگانہ میں بی سی ریزرویشن کا معاملہ پارلیمان میں کیوں نہیں اٹھایا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات صرف اسی وقت منعقد کیے جائیں جب 42 فیصد بی سی ریزرویشن نافذ کیا جائے۔
42 فیصد ریزرویشن تحریک کا منصوبہ
کویتانے کہا کہ بی سی تنظیموں کے تعاون سے ایک تحریک کا منصوبہ تیار کیا جائے گا تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ ان کے بقول 42 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسے پورا نہ کیا جائے۔
نتیجہ
کویتاکی اس مہم نے نہ صرف بی آر ایس کی پالیسی کو اجاگر کیا ہے بلکہ کانگریس حکومت پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ انتخابی وعدوں پر عمل کرے۔
