حیدرآباد: ضلع پداپلی کے کسان Urea shortageسے دوچار ہیں کیونکہ دھرمارم اور متھارم منڈلوں میں تقسیم کے مسائل بدستور جاری ہیں۔ محکمہ زراعت کی جانب سے الاٹمنٹ کے باوجود دستیاب مقدار طلب کے مقابلے میں کم ثابت ہو رہی ہے، جس سے کسانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
بدھ کی صبح دھرمارم منڈل کے رماییا پلی گاؤں میں ڈی سی ایم ایس سنٹر کو 270 بوری یوریا مختص کی گئی۔ جیسے ہی اسٹاک کی آمد کی خبر پھیلی، کسان آدھار کارڈ اور پٹہ دار پاس بک کی نقول کے ساتھ مرکز پہنچ گئے۔ طویل قطاریں لگ گئیں لیکن بیشتر کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مقدار موجودہ زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ کسانوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یوریا کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے تاکہ فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
ایک کسان نے کہا کہ اگرچہ تقسیم کا عمل جاری ہے لیکن یہ ضرورت کے مطابق نہیں۔ ہماری فصلیں بچانے کے لیے بر وقت اقدامات لازمی ہیں۔
متھارم میں صورتحال مزید سنگین
متھارم منڈل میں حالات کچھ مختلف نہ تھے۔ کسانوں نے یوریا حاصل کرنے کے لیے صبح سویرے اپنی چپلیں قطار میں رکھ دیں تاکہ تقسیم کے آغاز پر انہیں بوری مل سکے۔ دھوپ میں گھنٹوں انتظار کرتے کسانوں کی یہ علامتی کوشش ان کی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے۔
مقامی کسانوں نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ Urea shortageکو فوری طور پر دور کیا جائے اور کھاد کی ہموار اور وافر تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کی مشکلات کم ہو سکیں۔
