حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اتوار کو کیرالہ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ Kerala 2026 election کو صرف ریاستی انتخاب نہ سمجھیں بلکہ اسے 2029 میں بی جے پی کو شکست دینے کی بنیاد بنائیں۔ علپوژا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن ملک کے آئین اور جمہوری اقدار کے تحفظ کی لڑائی ہے۔
انہوں نے بی جے پی پر ووٹ کے حق کو “چوری” کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ کانگریس ان حقوق کے دفاع کے لیے میدان میں ہے۔ ریڈی نے کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال کی خدمات کو سراہا، خصوصاً ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی طبقات کے لیے ان کی کوششوں کو نمایاں کیا۔
تعلیمی میدان میں کیرالہ کی مثالی کارکردگی
ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی وینوگوپال کی 2006 میں شروع کی گئی پونتھوال ایم پی میرٹ ایوارڈ اسکیم ایک مثالی اقدام ہے۔ اس سال 150 اسکولوں کے 3,500 سے زائد طلبہ کو تعلیمی کارکردگی پر ایوارڈز دیے جائیں گے۔
انہوں نے کیرالہ کی تعلیمی ترقی، بالغ خواندگی، اور بارہویں جماعت کے بعد تقریباً صفر ڈراپ آؤٹ شرح کو سراہا اور کہا کہ یہ ریاست تعلیم کو سماجی ترجیح کے طور پر لیتی ہے۔
تعلیم کی بنیاد پر تلنگانہ کی ترقی
ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں اپنی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہدف ریاست کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے، اور اس ترقی کی بنیاد تعلیم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صرف 55 دنوں میں 11,055 اساتذہ کی تقرری کی گئی۔ اس کے علاوہ 100 حلقوں میں 25 ایکڑ پر مشتمل 200 کروڑ روپئے کی لاگت سے ینگ انڈیا رہائشی اسکولز قائم کیے جائیں گے، جو کارپوریٹ معیار کے ہوں گے۔
نوجوانوں کے لیے مہارت سازی کے تحت ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی قائم کی گئی ہے، جس کے چیئرمین آنند مہندرا ہیں، جبکہ آئی ٹی آئی اداروں کو جدید مراکز میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اسپورٹس یونیورسٹی اور اولمپکس پر مرکوز اکیڈمی کی بھی منصوبہ بندی جاری ہے۔
نوجوان قیادت کی اپیل
ریونت ریڈی نے ملک کے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو پہچانیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 21 سالہ آئی اے ایس افسران اضلاع سنبھال سکتے ہیں تو وہ اسمبلی انتخابات کیوں نہیں لڑ سکتے؟ انہوں نے کہا کہ آئین میں اس حوالے سے ترمیم ہونی چاہیے۔
ریڈی نے بی جے پی پر جمہوری حقوق کو ختم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا، اور کہا کہ کانگریس میڈیا یا مالی وسائل کے بغیر بھی آئین کے تحفظ کے لیے لڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راجیو گاندھی نے 18 سال کے نوجوانوں کو ووٹ کا حق دیا تھا، اور نریندر مودی اب اس حق کو چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ 2029 میں راہول گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی مہم کی قیادت کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا سرمایہ اور ملک کا مستقبل ہیں، اور انہیں اپنی اور ملک کی تقدیر کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔
