حیدرآباد: تلنگانہ ہاؤسنگ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر وی پی گوتم نے انتباہ دیا کہ Indiramma Housingاسکیم میں اگر کوئی عہدیدار یا عملہ بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، حتیٰ کہ جیل بھیجنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے منگل کے روز ہاؤسنگ کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ضلع پراجکٹ ڈائریکٹرس اور ڈپٹی انجینئرس کے ساتھ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی مستفیدین کے لئے 1,000 کروڑ روپۓ جاری کر دیے ہیں۔ 2.04 لاکھ مکانات میں تعمیر شروع ہوئی ہے جن میں سے ایک لاکھ مکانات بیسمنٹ کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ہاؤسنگ پر خصوصی توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔
ایم ڈی نے پراجکٹ ڈائریکٹرس اور ڈپٹی انجینئرس کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدہ فیلڈ وزٹ کریں، خامیوں کی نشاندہی کریں اور مسائل کو جلد از جلد حل کریں۔ انہوں نے مستفیدین کو بلز کی بروقت اجرائی پر بھی زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوں کی منظوری کے لئے رشوت طلب کرنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں کسی بھی اہلکار کو بخشا نہیں جائے گا۔ سنگین معاملات کو اینٹی کرپشن بیورو کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستفیدین کو کسی بھی حالت میں منظوری کے لئے رشوت نہیں دینی چاہئے۔
شفافیت کو مزید بڑھانے کے لئے ایم ڈی نے اعلان کیا کہ مستفیدین اب اندرماں ہاوسنگ ایپ کے ذریعے اپنے مکان کی تعمیر کی پیشرفت کی تصاویر خود اپ لوڈ کر سکتے ہیں تاکہ دیہات کے عملے پر انحصار نہ رہے اور دانستہ تاخیر سے بچا جا سکے۔
مزید برآں انہوں نے کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ بلڈنگ میٹیریل کی قیمتوں پر ہفتہ وار اجلاس منعقد کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریت، سیمنٹ اور اینٹیں مناسب قیمت پر دستیاب رہیں۔ اس کے لئے ریونیو اور ہاؤسنگ عہدیداروں کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو سپلائی کی نگرانی کریں گی۔
اجلاس میں 2 بی ایچ کے مکانات کی تقسیم اور نئی کالونیوں میں پانی اور بجلی کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس میں ہاؤسنگ کارپوریشن کے مشیر ایشوریا، چیف انجینئر ایم چیتنیہ کمار اور کئی سپرنٹنڈنگ انجینئرس شریک تھے۔
