حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر پونگلیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ حکومت Bhu Bharatiایکٹ 2025 کے تحت زیر التواء سادہ بیعنامہ درخواستوں کو حل کرے گی۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب تلنگانہ ہائی کورٹ نے ان کی باقاعدہ منظوری پر عائد حکم التواء کو ختم کر دیا۔
منگل کے روز وزیر نے کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی لاکھوں غریب خاندانوں کی برسوں پرانی ملکیت حاصل کرنے کی امید پوری ہوگئی ہے۔ انہوں نے سابقہ بی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے عوام کو گمراہ کیا۔ انہوں نے درخواستیں تو جمع کیں لیکن ریکارڈ آف رائٹس ایکٹ 2020 کے تحت کوئی قانونی طریقہ کار فراہم نہیں کیا۔
سرینواس ریڈی نے وضاحت کی کہ تقریباً 9.26 لاکھ درخواستیں دھرانی پورٹل کی پابندیوں کے سبب زیر التواء رہ گئیں۔ تاہم کچھ درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور کانگریس حکومت نے معاملے کو مسلسل آگے بڑھایا یہاں تک کہ فیصلہ آیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی اس مسئلے کا مستقل حل دینے کے لئے پرعزم ہیں، اسی لئے حکومت نے بھو بھارتی ایکٹ میں واضح دفعات شامل کی ہیں تاکہ ہر زیر التواء درخواست جلد از جلد یکسو کی جاسکے۔
وزیر نے مزید کہا کہ نفاذ کے لئے بنیادی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ بی آر ایس حکومت کے متعارف کردہ دھرانی پورٹل کو منسوخ کر دیا گیا جو ایک اہم انتخابی وعدہ بھی تھا۔ اس کے بعد 18 ریاستوں کے زمینی نظم و نسق کا مطالعہ کیا گیا اور انہی مطالعات کی بنیاد پر بھو بھارتی ایکٹ 2025 مرتب کیا گیا۔ سرینواس ریڈی نے اسے زمین کے تنازعات کے حل کے لئے “رول ماڈل” قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ عوامی مشاورت کے دوران اضلاع بھر سے 8.60 لاکھ نئی درخواستیں بھی موصول ہوئیں اور حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ہر ایک درخواست کی یکسوئی کر کے کسانوں اور غریب خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
