حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن TGSHRCنے شہر کے دو خانگی کالجوں کو سمن جاری کرتے ہوئے طلبہ کے اصل سرٹیفکیٹس روکنے کے عمل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین جسٹس شمیم اختر نے یہ احکام گوتمی ڈگری کالج، بالانگر اور سلطان العلوم فارمیسی کالج، بنجارہ ہلز کے معاملات میں جاری کیے۔
کمیشن نے دونوں اداروں کے صدور اور پرنسپال کو 28 اگست کو طلب کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
کمیشن نے واضح کیا کہ طلبہ کے اصل تعلیمی اسناد روکنا ان کے اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع کو متاثر کرتا ہے اور یہ براہ راست انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 21 کا حوالہ دیا جس کے تحت تعلیم کا حق زندگی کے حق کا لازمی حصہ ہے۔
گوتمی ڈگری کالج کے معاملے میں ایک بی بی اے طالب علم نے شکایت کی تھی کہ اسکالرشپ کی سرکاری رقم کی عدم ادائیگی کے بہانے اس کے ٹرانسفر اور اصل سرٹیفکیٹس روک لیے گئے ہیں۔ کمیشن نے اس پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری مالی تاخیر کی آڑ میں طلبہ کو ان کے اسناد سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ اس سلسلے میں کالج انتظامیہ کو وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح سلطان العلوم فارمیسی کالج کے معاملے میں 17 میں سے 10 طلبہ نے شکایت کی کہ ادارہ کمیشن کے سابقہ احکامات کے باوجود سرٹیفکیٹس واپس نہیں کر رہا۔ کمیشن نے اس کو سنجیدہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کالج کے صدر اور پرنسپال کو بھی 28 اگست کو طلب کیا ہے۔
کمیشن نے زور دیا کہ مستقبل میں سخت نگرانی کی جائے گی تاکہ طلبہ کو اس طرح کی زیادتیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
