حیدرآباد: وزیر صحت دامودَر راجا نرسمہا نے ڈرگ کنٹرول اتھارٹی (DCA) کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ دوا ساز کمپنیوں کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی Crackdownکی جائے۔
ڈی سی اے ڈائریکٹر جنرل شاہنواز قاسم نے بتایا کہ 2024 میں 25,939 معائنے کئے گئے جن میں 4,142 کمپنیوں کے خلاف کارروائی ہوئی۔ جنوری تا جولائی 2025 کے دوران 16,481 معائنے کئے گئے اور 2,827 خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر کارروائی کی گئی۔
جنوری 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان 7,200 میڈیسن سیمپلز ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 186 کو غیر معیاری قرار دیا گیا۔ اس دوران تقریباً 700 کریمنل کیس درج کئے گئے اور متعلقہ کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
وزیر صحت نے افسران کو ہدایت دی کہ ہر کیس میں سزا کو یقینی بنایا جائے اور جھوٹے و گمراہ کن اشتہارات دینے والی کمپنیوں پر سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر معیاری یا جعلی ادویات تیار یا فروخت کرنے والے مینوفیکچررز، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کو سخت سزائیں دی جائیں گی اور بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے ادارے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پریوینٹیو ڈیٹینشن ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اینٹی بائیوٹکس اور نشہ آور ادویات کی بغیر نسخے کے فروخت کے خلاف سختی کی جائے۔
راجا نرسمہا نے ڈرگ لیباریٹریز کی اپگریڈیشن تیز کرنے اور ڈرگ انسپکٹرز کی نئی اسامیوں کی منظوری کا بھی اعلان کیا تاکہ ڈی سی اے کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو معیاری ادویات اور محفوظ غذائیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
