حیدرآباد: سائبر مجرموں نے “ریفنڈ کیش بیک” کے نام پر نیا فراڈ طریقہ اختیار کرلیا ہے، جس میں اے پی کے فائلز کے ذریعے شہریوں کے بینک کھاتے خالی کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق حالیہ مہینوں میں سائبر کرائم اسٹیشنوں کو موصول ہونے والی شکایات میں سے تقریباً 80 فیصد اسی نوعیت کے دھوکہ دہی سے متعلق ہیں۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی رپورٹ کے مطابق UPIٹرانزیکشنز میں ہندوستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں ماہانہ لین دین کی مالیت 1,800 کروڑ روپئے سے تجاوز کرچکی ہے۔ رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا بھر میں حقیقی وقت کے 50 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیاں صرف ہندوستان سے ہوتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہی بڑی تعداد ملک کو فراڈیوں کا مرکزی نشانہ بنا رہی ہے۔
سائبر سکیورٹی بیورو نے وضاحت کی کہ “جمپ ڈپازٹ” نامی اسکیم میں مجرم صارفین کو ایک رقم کی درخواست بھیجتے ہیں جو بظاہر کریڈٹ میسج لگتا ہے۔ جیسے ہی صارف بیلنس چیک کرنے کے لیے یو پی آئی پن داخل کرتا ہے، رقم براہ راست فراڈیوں کے کھاتے میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اس نوعیت کی کئی شکایات درج کرائی جا چکی ہیں۔
حکام نے زور دیا کہ سائبر کرائم کی رپورٹنگ میں “گولڈن آور” نہایت اہم ہے۔ متاثرین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہیلپ لائن 1930 پر کال کریں تاکہ مشتبہ کھاتے منجمد کیے جا سکیں اور رقم کی منتقلی روکی جا سکے۔
قومی سائبر کرائم یونٹ نے انکشاف کیا کہ تقریباً 70 فیصد ایسے فراڈ کمبوڈیا سے شروع ہوتے ہیں، اس کے بعد دبئی اور چین سے۔ بیرون ملک گروہ جعلی ٹریڈنگ اور لون ایپس کے ذریعے مشکوک اے پی کے فائلز تقسیم کر کے فون ہیک کرتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھرنے والی “جمپ ڈپازٹ” اسکیم اسی نیٹ ورک کا حصہ ہے اور عوام کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
