نئی دہلی ۔ آبنائے ہرمز کی رکاوٹ اور دو انتخابات اس ہفتے بھارتی کاروبار کی سمت طے کریں گے۔ امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہیں۔ اس کے بعد اسرائیل 4 نومبر کو نتائج کی توثیق کرے گا۔ اسی دوران حوثی باب المندب کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اس لیے یہ تمام واقعات تیل، کرایوں اور روپے پر اثر ڈالتے ہیں۔
درآمدات رکی نہیں ہیں۔ کپلر کے مطابق اکتوبر میں روزانہ درآمد 54 سے 56 لاکھ بیرل رہی۔ روسی تیل کا حصہ کم ہو کر تقریباً 35 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے بجائے انگولا اور وینزویلا سے زیادہ تیل آ رہا ہے۔
تاہم اخراجات بلند ہیں۔ ہرمز سے آمد و رفت معمول کا تقریباً دسواں حصہ رہ گئی ہے۔ سینکڑوں جہاز لنگر انداز ہو کر انتظار کر رہے ہیں۔
ہرمز کی رکاوٹ سے برآمد کنندگان پریشان | Hormuz Shipping
بیمہ کمپنیوں نے جنگی خطرے کا پریمیم کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ نتیجتاً مال برداری ہر بیرل پر 10 سے 37 ڈالر کا اضافہ کر رہی ہے۔ انڈین آئل کے چیئرمین اے ایس ساہنی کے مطابق کرایہ خام تیل کی رعایت کھا رہا ہے۔
برآمد کنندگان بھی یہی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے اجے سہائے کے مطابق خریدار مزید کرایہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ اس کے علاوہ بیشتر بھارتی اشیا پر 10 فیصد امریکی ٹیرف نافذ ہے۔
دوسری جانب اسرائیل میں کوئی اتحاد 61 نشستوں تک نہیں پہنچا۔ اس لیے منڈیاں ایران تنازعے کے دوبارہ بھڑکنے سے خوفزدہ ہیں۔
بنیادی صورت میں رکاوٹ برقرار رہے گی اور روپیہ 95 کے قریب رہے گا۔ لیکن کشیدگی بڑھی تو تیل، بیمہ اور کرائے مزید بڑھیں گے۔ کشیدگی میں کمی سے راحت مل سکتی ہے، اگرچہ اس کا امکان کم ہے۔
