ممبئی ۔ ریزرو بینک کے شرح سود بڑھانے کے بعد ہوم لون کی قسطیں بڑھنے لگی ہیں۔ فروری 2023 کے بعد یہ پہلا اضافہ ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 7 اکتوبر کو ریپو ریٹ 25 بیسس پوائنٹس بڑھایا۔ نتیجتاً یہ شرح اب 5.50 فیصد ہے۔
کمیٹی نے اپنا موقف بھی غیر جانبدار سے بدل کر محتاط سختی کر دیا۔ آسان الفاظ میں ریزرو بینک نے فی الحال شرح میں کمی کا امکان ختم کر دیا ہے۔ اس کا اگلا قدم مزید اضافہ یا وقفہ ہوگا۔
گورنر سنجے ملہوترا کے مطابق مہنگائی کا منظر نامہ اب پہلے جیسا اطمینان بخش نہیں۔ ریزرو بینک کو اس سال اوسط مہنگائی 5.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ غذائی قیمتیں، مہنگا تیل اور کمزور مانسون اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
دوسری جانب شرح نمو مستحکم ہے۔ ریزرو بینک نے جی ڈی پی کا اندازہ 6.7 سے بڑھا کر 7.1 فیصد کر دیا۔ اسی لیے کمیٹی کو سختی کی گنجائش ملی۔
ہوم لون کی قسط کتنی بڑھی | Home Loan EMI
بینکوں نے چند دنوں میں شرحیں بڑھا دیں۔ پنجاب نیشنل بینک اور بینک آف انڈیا نے شرح 8.10 سے 8.35 فیصد کر دی۔ اسی طرح بینک آف بڑودہ اور انڈین بینک نے بھی شرحیں بڑھائیں۔
مثال کے طور پر بیس سال کے 50 لاکھ روپے کے قرض کو لیں۔ شرح 8 سے 8.25 فیصد ہونے پر قسط 41,822 سے بڑھ کر 42,603 روپے ہو جاتی ہے۔ یعنی ہر ماہ تقریباً 780 روپے زیادہ۔ تاہم 10 لاکھ روپے کے کار لون پر قسط صرف تقریباً 120 روپے بڑھتی ہے۔
مقررہ شرح والے قرض ری سیٹ تک متاثر نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ بعض بینک قسط کے بجائے مدت بڑھاتے ہیں۔
بچت کرنے والوں کو اب تک کم فائدہ ہوا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک نے کچھ ڈپازٹ شرحیں بڑھائیں، لیکن ایس بی آئی نے بڑا اضافہ نہیں کیا۔ بیشتر ماہرین کو 2 سے 4 دسمبر کے اجلاس میں ایک اور اضافے کی توقع ہے۔
