ممبئی ۔ سینسیکس اکتوبر میں دو ماہ کی گراوٹ سے باہر نکل آیا۔ یہ 2.73 فیصد بڑھ کر 30 اکتوبر کو 74,459.53 پر بند ہوا۔ نفٹی بھی 1.91 فیصد بڑھ کر 23,053.10 پر پہنچا۔ تاہم یہ تیزی چند شعبوں تک محدود رہی۔
دونوں انڈیکس اب بھی سال کے آغاز سے نیچے ہیں۔ سینسیکس 2025 کی اختتامی سطح سے تقریباً 12.6 فیصد نیچے ہے۔ اسی طرح نفٹی تقریباً 11.8 فیصد نیچے ہے۔
آئی ٹی شعبے نے اس تیزی کی قیادت کی۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 17.7 فیصد بڑھا، جو چھ برس میں اس کا بہترین مہینہ ہے۔ ٹی سی ایس، انفوسس اور ایچ سی ایل ٹیک کے حصص 16 سے 22 فیصد چڑھے۔ اس کے برعکس مڈ کیپ اور اسمال کیپ انڈیکس 3 سے 7 فیصد گرے۔
غیر ملکی سرمایہ کار فروخت کرتے رہے۔ این ایس ای کے مطابق انہوں نے اکتوبر میں 45,162 کروڑ روپے کے حصص بیچے۔ اسی دوران ملکی اداروں نے 62,220 کروڑ روپے کی خریداری کی۔
تیل کی قیمت سب سے بڑی فکر | Sensex October
روپے میں بھی اتار چڑھاؤ رہا۔ تقریباً 8 اکتوبر کو یہ 96.9 کی ریکارڈ کم سطح تک گیا۔ اس کے بعد مہینے کے آخر میں یہ 94.9 پر بند ہوا۔
تیل سب سے بڑی فکر رہا۔ بھارتی خام تیل کی باسکٹ کا اوسط اکتوبر میں 120.23 ڈالر فی بیرل رہا۔ اس کے علاوہ ریزرو بینک نے 7 اکتوبر کو ریپو ریٹ 5.50 فیصد کر دیا۔
پھر بھی معیشت کے اشارے مضبوط رہے۔ ایچ ایس بی سی کا کمپوزٹ پی ایم آئی 56.7 تک پہنچا، جو چار ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ ستمبر میں جی ایس ٹی وصولی 2.04 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ تاہم کاروں کی فروخت گزشتہ سال سے تقریباً 21 فیصد کم رہی۔
نومبر میں کئی اہم واقعات ہیں۔ امریکی انتخابات 3 نومبر کو ہیں، جبکہ مہنگائی کے اعداد 12 نومبر کو آئیں گے۔ اس کے بعد 30 نومبر کو جی ڈی پی کے اعداد جاری ہوں گے۔ ایس بی آئی سیکیورٹیز کے بلدیو پرکاش کے مطابق تیل سستا ہوا تو انڈیکس 5 سے 8 فیصد بڑھ سکتے ہیں۔
