حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں بجلی کا بحران اب روزمرہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ریاست میں طلب 16 اکتوبر کو 20,018 میگاواٹ کی ریکارڈ سطح پر پہنچی۔ ایک دن پہلے ہی یہ پہلی بار 20 ہزار میگاواٹ سے اوپر گئی تھی۔ اسی دوران تھرمل پلانٹس کوئلے کے کم ذخیرے پر چل رہے ہیں۔
یہ رجحان تشویش کی وجہ واضح کرتا ہے۔ ریاست کے قیام کے وقت 2014 میں زیادہ سے زیادہ طلب 6,648 میگاواٹ تھی۔ یہ 2023 میں 15,497 اور گزشتہ برس 17,162 میگاواٹ تک پہنچی۔ عام طور پر اکتوبر میں طلب گھٹتی ہے، لیکن اس سال روزانہ کھپت تقریباً 335 ملین یونٹ رہی۔
ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرمارکا اس کی وجہ کم بارش اور بدلتی کھپت بتاتے ہیں۔ خشک اضلاع میں کسان بورویل پمپ زیادہ دیر چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لفٹ آبپاشی، ایئر کنڈیشنر اور ڈیٹا سینٹرز بھی طلب بڑھا رہے ہیں۔
اکتوبر کے وسط میں تھرمل اسٹیشنوں کے پاس صرف نو دن کا کوئلہ تھا، جبکہ معیار 21 دن کا ہے۔ یادادری پلانٹ میں صرف پانچ دن کا ذخیرہ بچا تھا۔ اس پلانٹ کو اعلیٰ درجے کا جی نائن کوئلہ چاہیے، لیکن سنگارینی کولیریز اس کی بہت کم مقدار نکالتی ہے۔ نتیجتاً یادادری اکثر 4,000 میں سے صرف 1,200 سے 2,300 میگاواٹ بجلی بنا سکا۔
حکومت نے کمی دور کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ انجینئروں نے 20 اکتوبر کو یادادری کا پانچواں یونٹ گرڈ سے جوڑا۔ کول انڈیا نے بھی اوڈیشہ سے سالانہ تقریباً 50 لاکھ ٹن کوئلہ دینے پر اصولی رضامندی دی ہے۔
اگلی گرمیوں میں بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے | Telangana Power Crisis
بھٹی وکرمارکا نے 22 اکتوبر کو روزانہ تھرمل پیداوار 140 ملین یونٹ تک لے جانے کی ہدایت دی۔ اس وقت اوسط پیداوار تقریباً 91 ملین یونٹ ہے۔ اس کا مقصد پن بجلی کی کمی پوری کرنا ہے، کیونکہ ناگرجنا ساگر نے ہدف سے بہت کم بجلی پیدا کی۔
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے مطابق یہ دباؤ جولائی 2027 تک رہ سکتا ہے۔ اس لیے حکومت نے 6,000 کروڑ روپے کا ہنگامی فنڈ رکھا ہے۔ اس نے تقریباً 7,800 میگاواٹ کے شمسی، ہوائی اور بیٹری منصوبوں کو بھی منظوری دی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اسے بدانتظامی کہتی ہے۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راو کا الزام ہے کہ یہ قلت مہنگے درآمدی کوئلے کا جواز بن رہی ہے۔ سابق وزیر ٹی ہریش راو اسے انسانوں کا پیدا کردہ قحط کہتے ہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہر تحقیقات کے لیے تیار ہے۔
عہدیداروں کو اگلی گرمیوں میں 22 سے 24 ہزار میگاواٹ طلب کا اندازہ ہے۔ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی بھی یہی خدشہ ظاہر کر چکے ہیں۔ انہوں نے یادادری کو پوری صلاحیت سے چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
صارفین پر بھی بوجھ بڑھے گا۔ ریگولیٹری کمیشن نے ڈسکامز کو 5,420 کروڑ روپے کے پرانے اخراجات وصول کرنے کی اجازت دی ہے۔ غیر زرعی صارفین نومبر کے بلوں سے یہ چارج ادا کریں گے۔ پھر بھی سردیوں میں بجلی کی فراہمی کوئلے کی بروقت آمد پر منحصر رہے گی۔
